فارسی  | العربية  | ภาษาไทย  | Indonesia  | Deutsch  | français  | English  | پښتو
شنبه 31 شهريور 1397 11 محرم 1440 Saturday 22 September 2018

Responsive Joomla Template

Responsive Joomla Template. Works with Mobile, Tablets and Desktops/Laptops

Innovative Slideshow and Menu.

Selection from Eight different Colors.

منگل, 29 ستمبر 2015 09:38

سعودی حکام منیٰ سانحے کے ذ٘مہ دار ہیں

  سانحہ منیٰ میں شہید ہونے والے حاجیوں کے ایصال ثواب کے لئے منعقد ہونے والی مجلس عزا میں ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ محسن اراکی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب اور اس ملک کے اعلیٰ حکام اس سانحے کے ذ٘مہ دار ہیں اور اس اتنے بڑے سانحے کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سانحہ بغیر کسی کوتاہی اور غلطی کے وقع پذِر ہوا ہے۔

عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ حج اور اسکے مناسک کوئی ایسا اتفاقی عمل نہیں ہے کہ جو اچانک اور نا چاہتے ہوئے پیش آجائے بلکہ ایک ایسی عبادت ہے جو ہر سال انجام دی جاتی ہے اور ہر سال مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد حج کا فریضہ انجام دینے کے لئے وہاں پہنچتی ہے لہذا ان تمام اتفاقات کے لئے کہ جنکے بارے میں پیشنگوئی کی جاتی ہے ممکنہ اور مناسب اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا وہ حاجیوں کا راستہ بند کرنا تھا اور کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ راستہ بند کرنے کی وجہ سے اس طرح کے حادثے کی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی، بہرحال یہ بالکل واضح تھا کہ راستہ بند کرنے سے حادثات کا خطرہ ہے لہذا اس حادثے کی ذ٘ہ دار سعودی حکومت ہے۔ آیت اللہ اراکی نے کہا کہ اس حادثے کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جانی چاہئیں اور دنیا بھر کے قانونی اداروں اور خاص طور پر اسلامی ممالک کو چاہئے کہ وہ کمیشن تشکیل دے کر اس مسئلے کی تحقیقات کریں اور ان لوگوں کو سامنے لانے کے مقدمات فراہم کریں کہ جو اس حادثے کے اص مجرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال ایک دن منیٰ میں دوسرے دن عرفات اور مسجد الحرام میں اس طرح کے واقعات اور حادثات کو برداشت نہیں کرسکتے، یہ صورتحال سعودی عرب کے حکام کی غیر ذمہ دارانہ رویے کو واضح کرتی ہےاور اس میں کوئِ شک نہیں ہے کہ امت مسلمہ کی ذ٘ہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کرے اور حج کی انتظامات کے لئے مناسب سسٹم بنانے کے اقدامات کریں

Read 656 times

Leave a comment

التعريف بالمجمع العالمي للتقريب بين المذاهب الاسلامية

مجمع جهاني تقريب مذاهب اسلامي ، مؤسسه اي است اسلامي، علمي، فرهنگي و جهاني با ماهیت غير انتفاعي كه به دستور حضرت آيت الله خامنه اي ، ولي امر مسلمين در سال 1369 هجري شمسي برای مدت نا محدود تأسيس شد و داراي شخصيت حقوقي مستقل است . و محل اصلي آن تهران می باشد و مي تواند در صورت ضرورت در نقاط مهم ايران و ساير كشورهاي جهان شعب يا دفاتري تأسيس كند.