فارسی  | العربية  | ภาษาไทย  | Indonesia  | Deutsch  | français  | English  | پښتو
شنبه 31 شهريور 1397 11 محرم 1440 Saturday 22 September 2018

Responsive Joomla Template

Responsive Joomla Template. Works with Mobile, Tablets and Desktops/Laptops

Innovative Slideshow and Menu.

Selection from Eight different Colors.

ہفتہ, 02 جنوری 2016 12:09

ملک کے ا ہم ساحلی علاقوں میں انسداد دہشتگردی مراکز قائم کئے جائیں

روس نے کیسپیئن سی، جزیرہ کریمہ، مشرق بعید سمیت ملک کے اہم ساحلی علاقوں میں انسداد دہشت گردی کے خصوصی آپریشن مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے حکم دیا ہے کہ ملک کے اہم ساحلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف خصوصی آپریشن سینٹر قائم کئے جائیں ، کریملن کے اعلان کے مطابق یہ مراکز، کیسپیئن سی کے علاقے کاسپک ، شمال مغربی روس کے علاقے مورمانسک اورمشرقی ساحلی علاقوں پیترو پاؤلووسک- کامچاتسکی ، اور یوژنو- ساخالنسک میں قائم کئے جائیں گے۔

صدر پوتن نے حکم دیا ہے کہ ایسا ہی ایک مرکز جزیرہ نمائے کریمہ کے مرکز کے شہر سیمفروپول میں بھی قائم کیا جائے۔ صدر پوتن کے دستخط کے ساتھ جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق ساحلی علاقوں میں ایسے آپریشن سینٹروں کے قیام کا مقصد انسداد دہشت گردی فورس کو وفاقی ہماہنگی کے تحت فعال بنانا ہے۔ یہ مراکز ملک کے دوسرے ساحلی علاقوں میں بھی انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دے سکیں گے اور ان کا مقصدروس کے اقتدار اعلی پر تاکید کے علاوہ روسی پرچم لہرانے والے بحری جہازوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔

 

مشرق وسطی میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ان میں روسی شہریوں کی شمولیت کے پیش نظر، روس کے سیاسی اور سیکورٹی حکام کا خیال ہے کہ ملک میں دہشت گردانہ حملوں کے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے اور خاص طور سے ایسے حملے ملک کے دور افتادہ ساحلی علاقوں سے کئے جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس نے ساحلی علاقوں میں دہشت گردی کی روک تھام کی غرض سے ملک کے ساحلی علاقوں میں بھی خصوصی آپریشن مراکز پر توجہ دینا شروع کردی ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ داعش اور دیگر تکفیری دہشت گرد گروہوں میں شامل روسی شہریوں کی تعداد تین سے سات ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے

 

(این یک تفسیر سیاسی است راجع بہ وحدت و تروریزم تکفیری)

دنیا میں حقیقی اسلام پیش کیا جائے: صدر مملکت کا نطریہ اتحاد

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے روز تہران میں انتیسسویں وحدت اسلامی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اتحاد سے ہی متحدہ امت مسلمہ کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ صدر مملکت نے عالم اسلام میں تشدد و تفرقے کے علل و اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد ایسے گروہوں کے افکار و نظریات سے پیدا ہوتا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے جو اسلام کو صحیح طرح سے نہیں سمجھ سکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انتہا پسندانہ افکار کا مقابلہ کئےجانے، اسلام کے چہرے سے خود ساختہ تصویر ہٹائے جانے اور دنیا میں اسلام و مسلمین کی حقیقی تصویر پیش کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے حقیقی اسلام کی ترویج اور رائے عامہ کو اس سے روشناس کرائے جانے کو عالم اسلام کا اہم ترین فریضہ قرار دیا اور کہا کہ اس وقت رائے عامہ میں اسلام کو تشدد و انتہا پسندی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ، دین اسلام پر سب سے بڑا ظلم، اور دین رحمت و پیغام حق کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔

صدر مملکت نے وحدت اسلامی کی ضرورت پر ایسی حالت میں تاکید کی ہے کہ عالم اسلام اس وقت انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار بنا ہوا ہے، ایسی دہشت گردی کہ جس کے افکار کی، مغرب کی جانب سے ترویج کی جا رہی ہے۔ اس وقت دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی، اکّیسویں صدی کی دنیا کے لئے سب سے بڑا چیلنچ ہے مگر اس حقیقت کو صرف بیان کئے جانے سے ہی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا اس لئے کہ یہ صرف، اس مسئلے کی ایک صورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا، صرف جنگ اور بمباری سے خاتمہ ہوسکتا ہے؟ یا یہ کہ اس کی بنیاد کا پتہ لگائے جانے اور گفتگو کے ذریعے اس کا راستہ بند کئے جانے کی ضرورت ہے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ القاعدہ، داعش، بوکو حرام اور الشّباب جیسے گروہ، غلط افکار کا نتیجہ ہیں جو اپنے وحشیانہ جرائم کی کوئی حد ہی نہیں سمجھتے اور علاقے کے بعض ملکوں کی جانب سے ایسے گروہوں کی حمایت کا، امّت مسلمہ کی نابودی کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ درحقیقت تکفیری نظریات، اخلاقی اصول کی پامالی اور انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بنے ہیں جبکہ دین اسلام نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ دین و مذہب اور نسل و قوم نیز جغرافیائی حدود سے قطع نظر تمام انسان، اصولی اور بنیادی طور پر برابر ہیں۔ غلط افکار کی بنیاد پر دشمن، دین اسلام کو، جو تمام انسانوں کے لئے امن و انصاف اور رحمت کا دین ہے، تشدد و انتہا پسند اور تہذیب و تمدن کا خاتمہ کرنے والے دین کی حیثیت سے متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عالم اسلام کے اندر کچھ دھڑوں نے دانستہ یا جہالت کی بنیاد پر مسلمانوں میں تفرقے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے آلۂ کار کی حیثت سے شیعہ و سنّی فرقوں پر مشتمل تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مّد مقابل لا کھڑا کردیا ہے اور یہ ایک ایسا بڑا خطرہ ہے جو اس وقت عالم اسلام کو لاحق ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تیار کی جانے والی یہ سازش، اس بات کا سبب بنی ہے کہ شیعہ و سنی مسلمانوں پر مشتمل عالم اسلام، اپنی ترقی و پیشرفت اور حقیقی مقام تک پہنچنے کے راستے میں پائی جانے والی مشترکہ رکاوٹوں اور مشکلات کو دور نہ کرسکے۔ اسلام کے بارے میں غلط نظریات کا خاتمہ کرنے سے متعلق انسانی و اخلاقی اقدار اور حقیقی اسلام کی شناخت کی ترویج کے لئے سنجیدہ کوششیں بروئے کار لائے جانے کی اشّد ضرورت ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں انتیسسویں وحدت اسلامی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں بعض ایسے ہی حقائق کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دشمن نے گمراہی کی نئی راہ کا آغاز کیا ہے اور وہ، دینی حقائق کی مکمل تحریف ہے۔ جیساکہ صدر مملکت نے کہا ہے کہ اسلام میں شیعہ و سنّی ہلال کا، کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر سعودی عرب جیسے علاقے کے بعض ممالک، نادرست افکار اور تفرقہ انگیز اقدامات کے ذریعے مسلمانوں میں قومی، مذہبی اور سماجی طور پر پھوٹ ڈالنے اور خود ساختہ حد بندی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ چنانچہ انتہا پسندی کو کنٹرول اور تشدد و دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے فوجی طاقت کے استعمال سے کہیں زیادہ، غلط افکار کا خاتمہ، سماج و معاشروں کو آگاہ اور انھیں جہالت سے دور کئے جانے کی ضرورت ہے۔

Read 574 times

Leave a comment

التعريف بالمجمع العالمي للتقريب بين المذاهب الاسلامية

مجمع جهاني تقريب مذاهب اسلامي ، مؤسسه اي است اسلامي، علمي، فرهنگي و جهاني با ماهیت غير انتفاعي كه به دستور حضرت آيت الله خامنه اي ، ولي امر مسلمين در سال 1369 هجري شمسي برای مدت نا محدود تأسيس شد و داراي شخصيت حقوقي مستقل است . و محل اصلي آن تهران می باشد و مي تواند در صورت ضرورت در نقاط مهم ايران و ساير كشورهاي جهان شعب يا دفاتري تأسيس كند.