فارسی  | العربية  | ภาษาไทย  | Indonesia  | Deutsch  | français  | English  | پښتو
شنبه 31 شهريور 1397 11 محرم 1440 Saturday 22 September 2018

Responsive Joomla Template

Responsive Joomla Template. Works with Mobile, Tablets and Desktops/Laptops

Innovative Slideshow and Menu.

Selection from Eight different Colors.

ہفتہ, 02 جنوری 2016 12:06

عالم اسلام خود مختاری حاصل کرے۔ سربراہ عالمی مجلس برائے تقریب مذاہب اسلامی

عالمی مجلس برائے تقریب مذاب اسلامی کے سربراہ آیت اراکی نے انتیسویں عالمی وحدت اسلام کانفرنس سے خطاب کیا ان کے خطاب کا مکمل متن حسب ذیل ہے۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی محمد و آلہ الطاہرین و اصحابہ الخیرین المیامین

سب سے بڑے بحران جن میں عالم اسلام آج گرفتار ہے تین طرح کے ہیں۔

ایک: اکثر اسلامی ملکوں کے فیصلہ سازی کے مراکز میں دشمنوں کا اثر و نفوذ اور ان ملکوں میں آزادی اور خود مختاری حاصل کرنے کے جذبات کا فقدان ہے تا کہ وہ اپنے قومی اور دینی مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ اس صورتحال سے اسلام حکومتیں اور قومیں دشمن کے مقابل نہایت کمزرو ہوکر رہ گئي ہیں۔ اس کا منہ بولتا نمونہ مظلوم فلسطینی قوم پر صیہونی حکومت کے ظلم و ستم پر مسلمان ملکوں کی خاموشی ہے۔

صیہونی حکومت نے تقریبا سات دہائيوں سے سرزمین فلسطین پر قبضہ کررکھا ہے اور بدستور اپنی جارحانہ پالیسیوں پر گامزن ہے اور اس نے نہ صرف اپنے ظلم و بربریت سے ہاتھ نہیں کھینچا ہے بلکہ بدستور فلسطینیوں کی زمیںيں غصب اور انہیں آوارہ وطن کرتی جارہی ہے۔ اب تو صیہونی حکومت اپنی حد سے تجاوز کرچکی ہے اور پوری ارض فلسطین کو مکمل طرح سے یہودی ملک میں تبدیل کرنے کی سازش کررہی ہے۔اس کا سب سے بڑا ھدف مسجد الاقصی، مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ صیہونی حکومت اپنا یہ ھدف حاصل کرنے کےلئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہيں کررہی ہے اور اس کی آخری مجرمانہ کاروائي اس کے خلاف جدوجہد کے بزرگ علمبردار سمیر قنطار کو شہید کرنا ہے۔

علماے اسلام، اھل فکرو نظر، ثفافتی اور سیاسی شخصیتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی ملکوں کو دوبارہ خودمختاری عطا کرنے اور ان کے فیصلہ ساز مراکز سے دشمنان اسلام کو نکال باہر کرنے کی کوشش کریں۔

ارشاد رب العزت ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ »

ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ * فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ۔

صیہونیوں کے چنگل سے اسلامی ملکوں کی خود مختاری اور فلسطین  اور مسجد الاقصی کی آزادی کے لئے جدوجہد تمام مسلمانوں بلکہ تمام آزاد ضمیر انسانوں اور انصاف پسند افراد کا بنیادی فریضہ ہے۔

امید کہ فلسطین کو آزاد کرانے والی تنظیموں کے مزید فعال ہونے اور غرب اردن کے آزاد ضمیر شہریوں کےمسلح ہونے سے صیہونیوں کے خلاف فلسطینی قوم کے متحدہ قیام کا مشاہدہ کرپائيں گے۔ اس راہ میں فلسطینی قوم اور اسکی تحریکوں اور تنظیموں کی بھرپور حمایت ہر صاحب ضمیر انسان کا شرعا فریضہ واجب ہے۔

دویم: انتہا پسندی ایک اور بحران ہے جس سے بہت سے اسلامی ممالک بری طرح متاثر ہیں اور انہیں نہایت سنگین مسائل درپیش ہیں۔

انتہا پسندی سے مراد وہ بدعتیں ہیں جو مسلمانوں کی تکفیر پر منتج ہوتی ہیں اور اسلامی امۃ میں دشمنی مخاصمت اور داخلی جنگ کا سبب بنتی ہیں۔

بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل ہوئي ہےکہ لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم تصاب بعض

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ لا ترتدوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ سباب المسلم فسوق و تفالہ کفر

ایک اور روایت میں ارشاد ہوتا ہے من قذف مومنا بکفر فھو کقتلہ

آج بڑے افسوس کا مقام ہے کہ بعض مراکز فتوی یا مفتیان مشہور کی جانب سے ایسے فتوے سامنے آرہے ہیں اور اس طرح سے اظہار نظر کیا جارہا ہے جو بعض مسلمین کے خلاف ہیں اور اس سے تکفیر سے پیدا ہونے والے بحران میں مزید شدت آرہی ہے۔

ہمیں بڑے اسلامی مراکز جیسے الازھر شریف سے ماضی کی طرح امید ہے کہ وہ اتحاد المسلمین کی راہ میں قدم بڑھائيں گے اور بعض اسلامی مذاہب کے خلاف خاص موقف اپنا کر تکفیریوں کو شہ نہیں دیں گے۔

سب مسلمانوں بالخصوص علماء کرام اور پڑھے لکھے اور سربرآوردہ شخصیتوں کا فریضہ ہے کہ عوام کو تکفیریت کی گھناونی سازش سے آگاہ کریں جس کی سامراج اور دشمنان اسلام حمایت کررہے ہیں۔ عوام کو ان چھپے ہوئے ہاتھوں سے آشنا کریں جو تکفیریت کی پس پردہ حمایت کررہے ہیں۔ آج سامراج اور صیہونیت کے بین الاقوامی حامیوں نے سٹیلائيٹ چینل کے نیٹ ورک چلا کر اور انٹرنیٹ سے غلط استفادہ کرکے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی تکفیر پر اکسانے کی سازش رچی ہے۔ ہم نے بارہا اعلان کیا ہے کہ سٹیلائٹ چینل یا وہ ویب سائٹیں جو تشیع کے دفاع کے بہانے دیگر اسلامی مذاہب کے مقدسات کی توہین کرتی ہیں یا وہ سٹیلائيٹ چینل اور ویب سائيٹیں جن پر اھل سنت کے دفاع کے بہانے شیعہ مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں ان کی مالی مدد کرنے والے ایک ہی ہیں اور ان کا سرچشمہ بھی ایک ہی ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ خلیج فارس کے سرمایہ دار دونوں گروہوں کو مالی امداد دے رہے ہیں جبکہ عالمی سامراج کے سیاست داں اور علاقے میں انکے اتحادی بھی ان دونوں گروہوں کی حمایت کررہے ہیں۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے سیٹیلائٹ چینل اور ویب سائيٹیں نہ حقیقتا سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ ہیں۔ ہم ان لوگوں سے جن کی آواز عوام تک پہنچتی ہے درخواست کرتے ہیں کہ ان دونوں تشہیراتی گروہوں کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کریں۔

سویم: قرآن کریم نے مسلمانوں کو تفرقے اور تشتت سے منع کیا ہے۔

ارشاد رب العزت ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ * فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ۔ اللہ نے اس آیت شریفہ میں تفرقہ کو شرک کے مساوی اور توحید کے منافی قراردیا ہے۔

قرآن ان لوگوں کو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انحراف کیا اور اتحاد سے دوری اختیار کی،  خدا و رسول سے بیگانہ قراردیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ »

قرآن کی نظر میں انبیاء علیھم اسلام کی رسالت کا مقصد لوگوں کو متحد کرنا اور تفرقے سے بچانا قراردیا گيا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے « إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ

ایک اور آیت میں فرماتا ہے: « شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاء وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تفرقے اور اختلافات سے بہت زیادہ نفرت فرماتے تھے اور آپ نے امت کو ایک دوسرے کی دشمنی اور عداوت سے منع فرمایا ہے۔

امام احمد بن حنبل نے براء بن عازب سے روایت کی ہے کہ  " کان  ـ ای رسول الله صلی الله علیه و آله _ یأتینا إذا قمنا إلی الصلاة فمسح عواتقنا و صدورنا و کان یقول : « لاتختلفو فتختلف قلوبکم "

انہوں نے ابوذر غفاری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ "من فارق الجماعةـ او خالف الجماعة ـ  بشراً خَلَع ربعة الاسلام من عنقه"   

اسکے علاوہ عبداللہ بن مسعود سے روایت ہےکہ انہوں نے کہا  " سمعت رجلاً قرأ آیة سمعت النبی هم یقرأ خلافها فجئت به النبی فأخبرته فعرفت فی وجهه الکراهیة و قال « کلا کما محسن ، و لاتختلفوا ، فإنً من کان قبلکم اختلفوا فهلکوا»

ان بحرانوں سے نجات پانے کا واحد راستہ اسلامی ملکوں کی سیاسی ساخت کی اصلاح ہے۔ یہ بڑی تفصیلی بحث ہے جسے یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن جو بات یہاں کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ جو عوامل ان بحرانوں سے نجات دلاسکتے ہیں مندرجہ ذیل تجویزوں کے پیرائے میں عملی جامہ  پہن سکتے ہیں

 پہلی تجویز: اتحاد و یکجہتی کے ڈائيلاگ اور ذہنیت کو فروغ دینا، عام طور سے امت اسلامی بالخصوص جوان نسل کو اتحاد اور ایک دوسرے سے قریب آنے کی ضرورت کے نظریے سے آگاہ کرنا اور انہیں یہ بھی باور کرانا کہ جو چیزیں تفرقے اور اختلافات کا سبب ہیں ان سے اجتناب بھی ناگزیر ہے۔

دوسری تجویز: فلسطینی قوم اور اسکی اسلامی استقامت کی حمایت کے لئے عالم اسلام کے وسائل و ذرایع اور افرادی قوت جمع کرنا، فلسطینی گروہوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے اور ان کے اختلافات حل کرنے کی کوشش کرنا، یہ کوشش کرنا کہ مسئلہ فلسطین ہمیشہ عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ باقی رہے اور امت اسلامی کو فلسطین کی حمایت کے لئے زیادہ سے زیادہ تیار کرنا۔

تیسری تجویز: اسلامی ملکوں کی یونین قائم کرکے نیز اسلامی ملکوں کے درمیان ویزا کا نظام ختم کرکے عالم اسلام میں اتحاد اور اسلامی ملکوں کو قریب لانے کی کوشش کرنا۔ ان امور کے مندرجہ ذیل مسائل پر عمل کرنا لازمی ہے:

1: اسلامی ملکوں کے درمیان تجارت اور تعاون میں فروغ لانا بالخصوص مشترکہ اسلامی منڈی قائم کرنا، اسلامی ملکوں کے درمیان تجارت اور اقتصادی لین دین کو فروغ دینے کے لئے کسٹمز اور بینکاری کی سہولتیں دینا۔

2: اسلامی ملکوں کی یونیورسٹیوں کے درمیان علمی بالخصوص اسلامی اور انسانی علوم میں تعاون کرنا۔

3: اسلامی ملکوں کے درمیان علاقائي اور عالمی مسائل کے سلسلے میں ان کے موقف میں زیادہ سے زیادہ سیاسی قربت قائم کرنے کی کوشش کرنا۔

4: واحد اسلامی کرنسی بنانا

خداوند تبارک تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ اس وحدت اسلامی کانفرنس پر اپنی برکتیں نازل فرمائے تا کہ یہ اتحاد کی راہ میں اور مسلمانوں کے قلوب کو ایک دوسرے سے نزدیک کرنے میں مفید و موثر ثابت ہوسکے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ 

 

(تیتر خبر رئيس جمہور : ہمیں سیرت رسول اللہ پر عمل کرنا ہوگا۔ صدر مملکت

 

   

 

Read 604 times

Leave a comment

التعريف بالمجمع العالمي للتقريب بين المذاهب الاسلامية

مجمع جهاني تقريب مذاهب اسلامي ، مؤسسه اي است اسلامي، علمي، فرهنگي و جهاني با ماهیت غير انتفاعي كه به دستور حضرت آيت الله خامنه اي ، ولي امر مسلمين در سال 1369 هجري شمسي برای مدت نا محدود تأسيس شد و داراي شخصيت حقوقي مستقل است . و محل اصلي آن تهران می باشد و مي تواند در صورت ضرورت در نقاط مهم ايران و ساير كشورهاي جهان شعب يا دفاتري تأسيس كند.