فارسی  | العربية  | ภาษาไทย  | Indonesia  | Deutsch  | français  | English  | پښتو
شنبه 30 تير 1397 8 ذی‌القعده 1439 Saturday 21 July 2018

Responsive Joomla Template

Responsive Joomla Template. Works with Mobile, Tablets and Desktops/Laptops

Innovative Slideshow and Menu.

Selection from Eight different Colors.

اتوار, 21 جون 2015 13:29

استقبال رمضان:رحمت للعالمین حضرت محمد (ص) کا خطبہ

 نبی کریم (ص) کے استقبالِ رمضان سے متعلق ایک خطبے کا تذکرہ ہمیں بیہقی کی درج ذیل راویت میں ملتا ہے۔ اس خطبے سے استقبالِ رمضان کے نبوی معمول پر روشنی پڑتی ہے، ’’حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص ) نے شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ دیا اور فرمایا، اے لوگو! تمہارے اوپر ایک بڑا بزرگ مہینہ سایہ فگن ہوا ہے۔ یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے
    نبی کریم (ص) کے استقبالِ رمضان سے متعلق ایک خطبے کا تذکرہ ہمیں بیہقی کی درج ذیل راویت میں ملتا ہے۔ اس خطبے سے استقبالِ رمضان کے نبوی معمول پر روشنی پڑتی ہے، ’’حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص ) نے شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ دیا اور فرمایا، اے لوگو! تمہارے اوپر ایک بڑا بزرگ مہینہ سایہ فگن ہوا ہے۔ یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ﴿ایسی ہے کہ﴾ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ﴿اس کے﴾ روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو تطوع ﴿یعنی نفل﴾ قرار دیا ہے۔ جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اس شخص کے مانند ہے، جس نے دوسرے دنوں میں کوئی فرض ادا کیا ﴿یعنی اُسے ایسا اجر ملے گا جیسا کہ دوسرے دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے﴾۔ اور جس نے اس مہینے میں فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اُس نے ستّر فرض ادا کیے۔ اور رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنا اُس روزہ دار کے لیے روزہ رکھنے کا ہے، بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع ہو۔

  حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ﴿یعنی صحابہ کرام نے﴾ عرض کی، یا رسول اللہ (ص)! ہم میں سے ہر ایک کو یہ توفیق میسر نہیں ہے کہ کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے۔ نبی (ص )نے فرمایا، اللہ تعالیٰ یہ اجر اُس شخص کو ﴿بھی﴾ دے گا جو کسی روزہ دار کو دودھ کی لسّی سے روزہ کھلوا دے یا ایک کھجور کھلا دے یا ایک گھونٹ پانی پلادے۔ اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے تو اللہ تعالیٰ اُس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ ﴿اِس حوض سے پانی پی کر﴾ پھر اُسے پیاس محسوس نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے، اور جس نے رمضان کے زمانے میں اپنے غلام سے ہلکی خدمت لی، اللہ تعالٰی اسے بخش دے گا اور اُس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔‘‘   رمضان کی عظمت:  مندرجہ بالا خطبے میں رمضان المبارک کی عظمت کے چند پہلو بیان کیے گئے ہیں۔  * اس مہینے میں ایک رات ﴿شبِ قدر﴾ ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ * اس ماہ کے نفل، نیکی دوسرے ایام کے فرض کے مساوی حیثیت اور قدر و قیمت رکھتی ہے۔ * اِس ماہ میں ایک فرض عبادت کی ادائیگی دوسرے دنوں کے ستّر فرائض کے برابر ہے۔ * یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ * اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ * اس مہینے کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے۔   رمضان کی عظمت واضح کرنے کے پہلو بہ پہلو نبی (ص ) نے اس مہینے کے جن اہم اعمالِ صالحہ کی طرف توجہ دلائی ہے وہ درجِ ذیل ہیں۔ * اس ماہ کے روزے فرض ہیں۔ * یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ ہے۔ * روزہ دار کا روزہ کھلوانا بڑے اجر و ثواب کا فعل ہے۔ * اس مہینے میں اپنے زیرِدست افراد سے ہلکی خدمت لینی چاہیے۔ توقع ہےکہ ایسا کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ بخش دے گا اور دوزخ سے اُسے آزاد کردے گا۔   رمضان اور قرآن: مندرجہ بالا حدیث میں بیان کردہ امور کے علاوہ ماہِ رمضان المبارک کی بنیادی خصوصیت نزولِ قرآن مجید سے اس کا تعلق ہے۔ سورہ البقرۃ میں اس پہلو کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدیٰ وَالْفُرْقَانِِ فَمَنْ شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضاً أَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوْا اللّٰہَ عَلیٰ مَا ہَدَاکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo ﴿البقرۃ :۱۸۵﴾ ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اِس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔‘‘ رمضان کے مہینے میں قرآن کی عظیم نعمت انسانوں کو عطا کی گئی۔ اس نعمت کی قدر دانی کے اظہار کے لیے تین کام بتائے گئے۔   * اس پورے مہینے ﴿۲۹ یا ۳۰/دن﴾ کے روزے رکھے جائیں۔ طرزِ کلام یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنوں کی اس تعداد کی بھی اہمیت ہے چنانچہ بیماری یا سفر کی وجہ سے کچھ روزے اگر چھوٹ جائیں تو بقیہ دنوں میں اس تعداد کو پورا کرنا ضروری ہے۔ * اللہ کی کبریائی کا اعتراف و اعلان کیا جائے اور اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ انسان قدردانی کے اظہار کے مندرجہ بالا کام توجہ، خوش دلی اور شوق کے ساتھ اُسی وقت انجام دے سکتا ہے جب اُسے قرآن کے نعمت ہونے کا احساس ہو۔ قرآن کن پہلوؤں سے نعمت ہے اس کا جواب بہت وسیع ہے لیکن آیتِ بالا میں جن پہلوؤں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ یہ ہیں. * قرآن کتابِ ہدایت ہے۔ * اس میں وہ بینات ہیں جو اپنا مدعا بالکل واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔ * یہ کتاب کسوٹی ﴿فرقان﴾ ہے یعنی حق اور باطل میں فرق کرتی ہے۔   کتابِ ہدایت:  اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدیٰ۔ ﴿الیل: ۱۲﴾  ’’بےشک ہدایت دینا ہمارے ذمّہ ہے۔‘‘  اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت ہر زمانے میں آتی رہی ہے اور اس وقت قرآن مجید اور اہلبیتؑ (محمد و آل محمد) کی تعلیمات کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے، کیونکہ حضرت محمد (ص) کے فرمان کے مطابق  میں تمہارے درمیان دو گران قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں اگر میرے بعد تم نے ان کو تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ ایک کتاب اللہ قرآن اور دوسری میری عترت اہلبیتؑ (محمد و آل محمد)۔ الٓمٓ o ذٰلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَo الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَo والَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ اِلَیْْکَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَo أُوْلٰئِکَ عَلیٰ ہُدًی مِّن رَّبِّہِمْ وَ أُوْلٰ ئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo ﴿البقرۃ:۱-۵﴾ ’’الف لام میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے اُن پرہیزگار لوگوں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے، ﴿یعنی قرآن﴾ اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں اُن سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘   سورہ آلِ عمران میں کہا گیا۔ الٓمٓo اللّٰہُ لَا الٰہَ الاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُo نَزَّلَ عَلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ وَالاِنْجِیْلَo مِنْ قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِآیَاتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍo ﴿البقرۃ:۱-۴﴾  ’’الف، لام، میم۔ اللہ وہ زندہ و جاوید ہستی ہے جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اے نبی! اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کرچکا ہے اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے ﴿جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے﴾ اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کردیں اُن کو یقینا سخت سزا ملے گی۔ اللہ بےپناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے۔‘‘ کتابِ ہدایت ہونے کی بنا پر قرآن مجید کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر حق کے متلاشیوں کو سلامتی کے راستے بتاتا ہے اور اللہ کی رضا کے طالبین کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔

Read 8714 times

Leave a comment

التعريف بالمجمع العالمي للتقريب بين المذاهب الاسلامية

مجمع جهاني تقريب مذاهب اسلامي ، مؤسسه اي است اسلامي، علمي، فرهنگي و جهاني با ماهیت غير انتفاعي كه به دستور حضرت آيت الله خامنه اي ، ولي امر مسلمين در سال 1369 هجري شمسي برای مدت نا محدود تأسيس شد و داراي شخصيت حقوقي مستقل است . و محل اصلي آن تهران می باشد و مي تواند در صورت ضرورت در نقاط مهم ايران و ساير كشورهاي جهان شعب يا دفاتري تأسيس كند.