فارسی  | العربية  | ภาษาไทย  | Indonesia  | Deutsch  | français  | English  | پښتو
يكشنبه 30 ارديبهشت 1397 5 رمضان 1439 Sunday 20 May 2018

Responsive Joomla Template

Responsive Joomla Template. Works with Mobile, Tablets and Desktops/Laptops

Innovative Slideshow and Menu.

Selection from Eight different Colors.

اتوار, 21 جون 2015 13:35

یمن پر سعودی جارحیت آل سعود کی بے تقوائی کی علامت ہے

مولوی نذیر احمد سلامی نے کہا ہے کہ یمن پر سعودی جارحیت آل سعود کی بے تقوائی اور انکی مینیجمنٹ میں نقائص کی وجہ سے ہے۔
        مولوی نذیر احمد سلامی نے کہا ہے کہ یمن پر سعودی جارحیت آل سعود کی بے تقوائی اور انکی مینیجمنٹ میں نقائص کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سعودی عرب سب سے پہلے تو خود اپنے اس اقدام سے خوف زدہ ہے کیونکہ اس نے امریکی اور اسرائیلی جرنلوں کے حکم پر ایک کمزور ملک کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ قرآن و سنت سے اخذ کردہ اسلام کی حاکمیت اور امت واحدہ کی تشکیل کا مخالف ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب نے یمن پر حملہ کر کے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ سعودی عرب میں قرآن اور اسلام کی حاکمیت باقی رہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کے حکمران قرآن و سنت پر عمل کرنا شروع کر دیں تو بہت سارے انحرافات کی روک تھام ممکن ہے لیکن وہ ڈرتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انکے منافع خطرے میں پڑ جائیں گے۔ مولوی نذیر احمد نے کہا کہ سعودی عرب کا یمن پر حملہ ایران اور تشیع کے خوف کی وجہ سے ہے۔  انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے جملے کو کہ ایران کبھی بھی کشور گشائی کا ارادہ نہیں رکھتا کہا کہ امام راحل نے بھی بارہا فرمایا ہے کہ انقلاب صادر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اسلامی ممالک کے درمیان سرحدوں کو ختم کرنے کے درپے ہو جائیں اور ان ممالک پر قبضہ کر لیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی افکار و نظریات اسلامی ممالک کے عوام کے زریعے حکمفرما ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یمن پر سعودی حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے مختلف شہروں میں مظلوم اور بے گناہ عوام پر سعودی حملوں کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے اور یہ بالکل ویسی ہی جارحیت ہے کہ جو اسرائیل نے غزہ میں انجام دی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آک امریکہ اور اسرائیل اور استکبار جہان اس بات سے بہت زیادہ خوشحال ہیں کہ مسلمان ایک دوسرے کی جانوں کے درپے ہیں۔
Read 953 times

Leave a comment

التعريف بالمجمع العالمي للتقريب بين المذاهب الاسلامية

مجمع جهاني تقريب مذاهب اسلامي ، مؤسسه اي است اسلامي، علمي، فرهنگي و جهاني با ماهیت غير انتفاعي كه به دستور حضرت آيت الله خامنه اي ، ولي امر مسلمين در سال 1369 هجري شمسي برای مدت نا محدود تأسيس شد و داراي شخصيت حقوقي مستقل است . و محل اصلي آن تهران می باشد و مي تواند در صورت ضرورت در نقاط مهم ايران و ساير كشورهاي جهان شعب يا دفاتري تأسيس كند.